آئس لینڈ

  • Vatnajökull
  • Vík í Mýrdal

Context of آئس لینڈ

  

آئس لینڈ کا سرکاری نام جمہوریہ آئس لینڈ ہے۔ (Icelandic: Ísland or Lýðveldið Ísland; آئس لینڈ ایک جزیرہ ہے جو شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ اس کے بیرونی حصے شمال میں اٹلانٹک (بحر اوقیانوس) سمندر میں یورپ اور گرین لینڈ کے درمیان موجود ہیں۔ جولائی 2008ء کے مطابق اس کی آبادی 311396 ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریکیاویک ہے۔ وسطی اٹلانٹک پلیٹ پر اپنے محل وقوع کے لحاظ سے آئس لینڈ آتش فشانی اور ارضیات کے حوالے سے کافی بڑے پیمانے پر متحرک ہے۔ اس کا اندرونی حصہ سطح مرتفع پر مشتمل ہے جو ریتلے میدانوں، پہاڑوں اور گلئیشرز(یخ بست دریا) پر مشتمل ہے اور ان ہی گلیشئرز (یخ بست دریا) سے دریا نکل کر اس کے زیریں حصوں سے ہوتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ خلیجی رو کی وجہ سے آئس لینڈ کا درجہ حرارت اس کے محل وقوع کے باوجود نسبتاً معتدل رہتا ہے اور اس وجہ سے یہاں رہائش کرنا نسبتاً آسان ہے۔ آئس لینڈ میں انسانی آبادی کے آثار 874ء سے ملتے ہیں جب نارویجیئن سردار انگولفر آرنارسن آئس لینڈ کا پہلا مستقل آباد کار بنا۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے یہاں کے چکر لگائے تھے اور قیام ...مزید پڑھیے۔

  

آئس لینڈ کا سرکاری نام جمہوریہ آئس لینڈ ہے۔ (Icelandic: Ísland or Lýðveldið Ísland; آئس لینڈ ایک جزیرہ ہے جو شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ اس کے بیرونی حصے شمال میں اٹلانٹک (بحر اوقیانوس) سمندر میں یورپ اور گرین لینڈ کے درمیان موجود ہیں۔ جولائی 2008ء کے مطابق اس کی آبادی 311396 ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریکیاویک ہے۔ وسطی اٹلانٹک پلیٹ پر اپنے محل وقوع کے لحاظ سے آئس لینڈ آتش فشانی اور ارضیات کے حوالے سے کافی بڑے پیمانے پر متحرک ہے۔ اس کا اندرونی حصہ سطح مرتفع پر مشتمل ہے جو ریتلے میدانوں، پہاڑوں اور گلئیشرز(یخ بست دریا) پر مشتمل ہے اور ان ہی گلیشئرز (یخ بست دریا) سے دریا نکل کر اس کے زیریں حصوں سے ہوتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ خلیجی رو کی وجہ سے آئس لینڈ کا درجہ حرارت اس کے محل وقوع کے باوجود نسبتاً معتدل رہتا ہے اور اس وجہ سے یہاں رہائش کرنا نسبتاً آسان ہے۔ آئس لینڈ میں انسانی آبادی کے آثار 874ء سے ملتے ہیں جب نارویجیئن سردار انگولفر آرنارسن آئس لینڈ کا پہلا مستقل آباد کار بنا۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے یہاں کے چکر لگائے تھے اور قیام بھی کیا تھا۔ اگلی صدیوں کے دوران نارڈک اور گائلیک لوگوں نے آئس لینڈ کو اپنا مستقر بنایا۔ بیسویں صدی سے قبل تک آئس لینڈ کی آبادی کا انحصار ماہی گیری اور زراعت پر تھا اور 1262ء سے 1944ء تک یہ ناروے کا حصہ رہا اور اس کے بعد ڈینش (دانمارکی) بادشاہت کا۔ بیسویں صدی میں آئس لینڈ کی معیشت اور بہبود کا نظام بہت تیزی سے پروان چڑھا۔ آج آئس لینڈ ایک ترقی یافتہ ملک ہے، فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں اور انسانی ترقی کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کی معیشت فری مارکیٹ (آزاد منڈی) اکانومی پر مشتمل ہے جس میں خدمات، فنانس(مالیات)، ماہی گیری اور مختلف صنعتیں اہم سیکٹرز ہیں۔ سیاحت بھی کافی مقبول ہے۔ آئس لینڈ UN, NATO, EFTA, EEA اور OECD کا رکن ہے لیکن یورپی یونین کا رکن نہیں۔

Map